ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی کے مسئلہ پر ریاستی اسمبلی میں کانگریس ۔بی جے پی نوک جھونک

نوٹ بندی کے مسئلہ پر ریاستی اسمبلی میں کانگریس ۔بی جے پی نوک جھونک

Thu, 09 Feb 2017 11:11:09    S.O. News Service

بنگلورو،8؍فروری(ایس او نیوز) اعلی قدر کی کرنسی نوٹوں کی مرکزی حکومت کی جانب سے 8نومبر کو منسوخی کے نتیجہ میں کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں کانگریس اور اصل حزب اختلاف بی جے پی کے ارکان کے درمیان گرما گرم مباحث ہوئے ۔حکمراں جماعت کے ارکان نے کسانوں کو پریشان کن صورتحال میں ڈال دینے مرکزکی این ڈی اے حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا۔ مشترکہ سیشن سے گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث کے دوران کانگریس کے رکن کے این راجنا نے الزام لگایا کہ نوٹوں کی منسوخی نے کسانوں کو مایوس کردیا کیو ں کہ وہ نقدی کی کمی سے شدید طور پرمتاثر ہوئے اور بہتر قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرنے سے قاصر رہے ، جبکہ آر بی آئی نے نئی نوٹوں کے استعمال پر امداد باہمی کی انجمنوں پر پابندی لگائی ،جس سے ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔نہ ہی وہ اپنی محنت کی رقم نکال سکے اور نہ ہی قرض کی رقم ادا کرسکے اور نہ ہی نیا قرض حاصل کرسکے ۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی کوآپریٹیو بینکس میں 534کروڑ روپے کی پرانی کرنسی نوٹس پھنسی ہوئی تھیں اور آر بی آئی نے نئی کرنسی نوٹوں سے اس کی تبدیلی سے انکار کردیا تھا، جس سے زرعی شعبہ شدید طور پر متاثر رہا۔مرکزی حکومت یہ اصرار کررہی ہے کہ کسان چیک کا استعمال کریں تاہم سبزی اگانے والے یا فروخت کرنے والے ایسا نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کی تجارت رقمی معاملتو ں پر منحصر ہے ۔راجنا نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے اندرون 100دن کالا دھن لانے اور ہر شہری کے اکاونٹ میں 15لاکھ روپے جمع کرنے کاو عدہ کیا تھا ،لیکن تین سال کے بعد بھی ایسا نہیں ہوسکا۔نوٹ بندی سے عوام برہم ہوگئے ہیں ،کیوں کہ رقم نکالنے پر پابندی سے لوگ بینکوں کے سامنے قطار لگانے پر مجبو رہوئے اور اپنے خود کی محنت کی کمائی کو نکالنے کیلئے انہیں بھیک مانگنا پڑا۔بی جے پی کے رکن و سابق وزیر سی ٹی روی نے کانگریس رکن کے ریمارکس کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ نوٹ بندی نے کالے دھن کی لعنت کا خاتمہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور اس کے لیڈر اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان گرما گرم مباحث ہوئے ،حالانکہ اسپیکر کے بی کولی واڈ نے متحارب ارکان کے جذبات کو سرد کرنے کی کوشش کی۔انہو ں نے کہا کہ بی جے پی کے ارکان کی جانب سے دئے گئے بیانات ریکارڈ میں شامل نہیں کئے جائیں گے، کیوں کہ انہوں نے اظہار خیال کا موقع نہیں دیا تھا۔یہ ارکان اس وقت اظہارخیال کرسکتے ہیں جب انہیں اس کی اجازت دی جائے ۔بعدازاں وزیر صنعتیں و سینئر لیڈر آر وی دیشپانڈے راجنا کے بچاؤمیں آگئے اور کہا کہ ریاست کو نوٹ بندی کے سبب شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ 8نومبر سے اس کے ٹیکس کی وصولی میں مشکلات ہوئیں۔مرکزی حکومت نے اس اعلان سے پہلے مناسب تیاریاں نہیں کی تھیں۔ اس سے عام آدمی اور ریاستی حکومتیں متاثر ہوئیں۔اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے راجنانے کہا کہ وہ اعلیٰ قدر کی کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے خلاف اظہار خیال نہیں کررہے ہیں بلکہ اس بات کا حوالہ دے رہے ہیں کہ مرکز کے ایسے قدم سے اس طرح عوام بالخصوص کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


Share: